MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہر گل سے ہر خار سے الجھا رہتا ہے

غزل

ہر گل سے ہر خار سے الجھا رہتا ہے
دل ہے اپنے یار سے الجھا رہتا ہے

پھول خفا رہتے ہیں اپنی شاخوں سے
در اپنی دیوار سے الجھا رہتا ہے

میری جوانی کا ساتھی مرا آئینہ
چاندی کے ہر تار سے الجھا رہتا ہے

جانے میرا شاعر بیٹا کیوں اکثر
دادا کی تلوار سے الجھا رہتا ہے

لوگ تو آخر لوگ ہیں ان سے کیا شکوہ
عیسیٰ کیوں بیمار سے الجھا رہتا ہے

مورت بنتی ٹوٹتی بنتی رہتی ہے
فن اپنے فن کار سے الجھا رہتا ہے

سعید احمد اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم