MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہاں ہے دھوپ وہاں سائے ہیں چلے جاؤ

غزل

یہاں ہے دھوپ وہاں سائے ہیں چلے جاؤ
یہ لوگ لینے تمہیں آئے ہیں چلے جاؤ

بلاوا آیا ہے جانے میں کوئی حرج نہیں
یہاں بھی دکھ ہی سدا پائے ہیں چلے جاؤ

وہ جس کے واسطے بلوایا جا رہا ہے تمہیں
اگر یہ لوگ اسے لائے ہیں چلے جاؤ

پڑے رہوگے یہاں کب تلک برے حالوں
وہاں تو حسن کے سرمائے ہیں چلے جاؤ

میں کیا بتاؤں وہاں کیا ہے جو نہیں ہے یہاں
نشاط روح کے پیرائے ہیں چلے جاؤ

میں روک پاؤں گا آنسو نہ رخصتی پہ مگر
کہار ڈولی جو لے آئے ہیں چلے جاؤ

تمہیں تو قبر کی مٹی بھی اب پکارتی ہے
یہاں کے لوگ بھی اکتائے ہیں چلے جاؤ

گریز اتنا بھی صابر ظفرؔ نہیں اچھا
پیام اس نے جو بھجوائے ہیں چلے جاؤ

صابر ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم