MOJ E SUKHAN

زندگی چپکے سے اک بات کہا کرتی ہے

غزل

زندگی چپکے سے اک بات کہا کرتی ہے
وقت کے ہاتھوں میں کب ڈور رہا کرتی ہے

سرد سی شاموں میں چلتی ہے اداسی کی ہوا
چاندنی رات بھی خاموش رہا کرتی ہے

تم تو آئے ہو گلابوں کے لیے دیر کے بعد
قریۂ جاں میں تو اب خاک اڑا کرتی ہے

بے سبب آنکھوں میں آنسو بھی نہیں آتے اب
وحشت دل بھی کہیں دور رہا کرتی ہے

روشنی میں تو نظر آتے ہیں کتنے سائے
پر یہ تاریکی تو سایہ بھی جدا کرتی ہے

ہم بھی کھو جائیں گے اک روز افق پر یونہی
کب کسی سے یہ فرحؔ زیست وفا کرتی ہے

فرح اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم