MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مدتوں ہم سے ملاقات نہیں کرتے ہیں

غزل

مدتوں ہم سے ملاقات نہیں کرتے ہیں
اب تو سائے بھی کوئی بات نہیں کرتے ہیں

دشت حیراں کا پتہ آج بھی معلوم نہیں
اب تو راہوں میں بھی ہم رات نہیں کرتے ہیں

معبدوں میں جو جلاتے تھے دیے میرے لیے
اب سر شام مناجات نہیں کرتے ہیں

بانٹ دیتے ہیں سبھی خواب سہانے اپنے
دامن درد سے خیرات نہیں کرتے ہیں

روک لیتے تھے جو جنگل میں وہ آسیب بھی اب
چپ ہی رہتے ہیں سوالات نہیں کرتے ہیں

وہ جو برسے تھے عنایات کے بادل ہم پر
وہ بھی اب پہلی سی برسات نہیں کرتے ہیں

کتنے برہم تھے فرحؔ ٹوٹ کے جب بکھرے تھے
آج کل ہم بھی شکایات نہیں کرتے ہیں

فرح اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم