MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کبھی تم بھیگنے آنا مری آنکھوں کے موسم میں

غزل

کبھی تم بھیگنے آنا مری آنکھوں کے موسم میں
بنانا مجھ کو دیوانہ مری آنکھوں کے موسم میں

برستا بھیگتا ہو جب کوئی لمحہ نگاہوں میں
وہیں تم بھی ٹھہر جانا مری آنکھوں کے موسم میں

کئی موسم گزارے ہیں انہوں نے دھوپ چھاؤں کے
نیا موسم کوئی لانا مری آنکھوں کے موسم میں

سنہری دھوپ پھیلی ہو کہیں یادوں کے جنگل میں
تو کرنیں بن کے مسکانا مری آنکھوں کے موسم میں

کبھی دو چار ہو جائیں مری نظریں جو تم سے تو
چھلک جائے گا پیمانہ مری آنکھوں کے موسم میں

مری آنکھوں کے سب موسم ہیں تنہائی سے گھبرائے
نہ تنہا چھوڑ کر جانا مری آنکھوں کے موسم میں

ہیں یوں تو فاصلے کتنے زمانوں کے مکانوں کے
مگر ملتے ہو روزانہ مری آنکھوں کے موسم میں

فرح اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم