MOJ E SUKHAN

اک ہاتھ پہ آنکھیں رکھی ہیں اک ہاتھ پہ چہرا ہوتا ہے

غزل

اک ہاتھ پہ آنکھیں رکھی ہیں اک ہاتھ پہ چہرا ہوتا ہے
ہر گام مداری بیٹھے ہیں ہر وقت تماشا ہوتا ہے

اب کون یہاں مجذوب نہیں بازار میں کیا موجود نہیں
عرفان کی مالا بکتی ہے الہام کا سودا ہوتا ہے

اپنی خلوت میں دھیان کہاں خاموشی ہے وجدان کہاں
اک آندھی خاک اڑاتی ہے اک آگ کا دریا ہوتا ہے

دل بحر سمان آنکھیں روشن پر راہ گزر بھی تو دیکھو
اک تنگ نظر کی بدلی نے اندھیر مچایا ہوتا ہے

کل جھوم کے بولی کینچلیٔ الحاد عقیدے کے من سے
اے رند تجھے دو مونہوں نے کیا جام پلایا ہوتا ہے

ہر بت کے آگے سجدے پر زندیقی کو مجبور نہ کر
یہ جہل مراتب آخر کس کافر کو گوارا ہوتا ہے

ہم لوگ پشیماں فطرت ہیں دیوانوں کی کب سنتے ہیں
آنکھوں والے پڑھ سکتے ہیں دیوار پہ لکھا ہوتا ہے

فیصل عظیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم