MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بھری ہے آگ جیبوں میں کف افسوس ملتے ہیں

غزل

بھری ہے آگ جیبوں میں کف افسوس ملتے ہیں
ہماری ہی کمائی سے ہمارے ہاتھ جلتے ہیں

مرے اطراف میں یہ کھینچا تانی کم نہیں ہوتی
ادھر پہلو بدلتا ہوں ادھر جالے بدلتے ہیں

کسی کو بھی وہ انگارہ دکھائی ہی نہیں دیتا
اشارے سے بتاتا ہوں تو اپنے ہاتھ جلتے ہیں

میں اپنے جسم سے باہر ہوں یا روحوں کا مسکن ہے
انہیں میں چھو نہیں پاتا جو میرے ساتھ چلتے ہیں

ہمارے چاک پر عقبیٰ کئی شکلیں بدلتی ہے
یہ جنت اور جہنم تو ہمارے ساتھ چلتے ہیں

نظر انداز کرکے سب گزر جاتے ہیں مجھ میں سے
نفی کرتے ہوئے مجھ میں کئی رستے نکلتے ہیں

صدا بن کر بہت ٹکرائے ہیں مینار و گنبد سے
اب آنکھیں کھل گئی ہیں تو اندھیرے سے نکلتے ہیں

فیصل عظیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم