MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہم نشیں کچھ تو علاج دل شیدا کر دے

غزل

ہم نشیں کچھ تو علاج دل شیدا کر دے
زندگی کو نہ مری نذر تماشا کر دے

جام الفت سے مرے لب کو شناسا کر دے
وقف اوروں کے لئے وسعت دریا کر دے

آستانوں کو تو بے شک نہ کمی ہے لیکن
سجدہ ریزی کا جنوں تجھ کو نہ رسوا کر دے

دیکھ لیں اپنی بھی آنکھوں سے وہ انجام ستم
کور چشموں کو عطا دیدۂ بینا کر دے

رکھئے احسان نہ اس چارہ گری کا ہم پر
دل کے زخموں کو جو کچھ اور بھی گہرا کر دے

بھیک میں مانگے اجالوں پہ گزارا کب تک
اس سے بہتر تو یہی ہے کہ اندھیرا کر دے

زہر کا جام سہی بادۂ رنگیں نہ سہی
تو اگر چاہے تو اس کو بھی گوارا کر دے

زرد چہروں پہ بھی کھل جائے گلستان شباب
تیری دزدیدہ نگاہی جو اشارہ کر دے

بار ہے تجھ پہ جو زنجیر تعلق اے دوست
بیڑیاں کاٹ کے اس قید کو ہلکا کر دے

گرمیٔ فن سے ہنر مندیٔ دست فنکار
سخت پتھر کو اگر چاہے تو شیشہ کر دے

مٹ ہی جائے گی شب غم کی سیاہی بہزادؔ
دل کو روشن جو چراغ رخ زیبا کر دے

بہزاد فاطمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم