MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کیا عجب مرنے پہ بھی عشق کی خو ساتھ رہے

غزل

کیا عجب مرنے پہ بھی عشق کی خو ساتھ رہے
سوکھ بھی جائے اگر پھول تو بو ساتھ رہے

کانپتے ہاتھوں سے دامان تقدس نہ چھٹے
میکدے جاؤں تو اک ظرف وضو ساتھ رہے

اے خیال رخ جاناں مری جاں تجھ پہ نثار
دونوں عالم مجھے حاصل ہیں جو تو ساتھ رہے

ہم گدائے در مے خانہ کو ہے کام سے کام
جام و ساغر نہ سہی ایک عدو ساتھ رہے

کچھ تو انجام محبت کی خبر ہو اس کو
میرا مدفن جو مٹاؤ تو کدو ساتھ رہے

چھوڑ جاتا ہے کوئی اپنی ضرورت کی چیز
جاؤں مسجد میں جو میں جام و سبو ساتھ رہے

اشک خونین کا بھی تار نہ ٹوٹے اے دل
زخم غم کے لئے اک تار رفو ساتھ رہے

قطرۂ اشک نہ خالی رہے رنگینی سے
جب کبھی آنکھ سے نکلے تو لہو ساتھ رہے

تجھ پہ کھل جائے ترے دل کی حقیقت زاہد
ایک دم بھی جو کوئی آئینہ رو ساتھ رہے

تیر صیاد نہ نکلے ترے دل سے بیدلؔ
توڑ کر نکلے بھی دل کو تو لہو ساتھ رہے

بیدل عظیم آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم