غزل
مری نگاہ کی کرنوں سے جب نہا جائے
تم اس کو دیکھو تو بس دیکھتے رہا جائے
کسی کے غم کے سہارے ہی جی لیا جائے
جو یہ بھی پاس نہ ہووے تو کیا کیا جائے
تمہارے ہونٹوں پہ تالے مری زبان پہ مہر
چلو لتا کا کوئی گیت ہی سنا جائے
یہ پیڑ بانجھ ہے معلوم ہے ہمیں لیکن
جو پھل نہیں ہیں تو پھر پھول ہی چنا جائے
حقیقتوں سے تو دن رات پالا پڑتا ہے
کبھی کبھی کوئی افسانہ بھی سنا جائے
نہ مر ہی جاتا ہے وہ اور نہ جی ہی پاتا ہے
عجیب شخص ہے بس سوکھتا چلا جائے
یہ بڑھتے لوگ یہ سکڑا ہوا حیات کا گھر
کہو کہ اب کے کسی اور گھر خدا جائے
کبھی تو اترے کوئی دل کے سونے آنگن میں
پگھلتی آنکھوں میں اک خواب تو سما جائے
بلندیوں پہ تو اک عمر کاٹ دی میں نے
کبھی کبھی کسی پستی میں بھی گرا جائے
ہر ایک آنکھ پگھلتی ہی جاتی ہے بدنامؔ
ہر ایک چہرہ دھواں ہی دھواں ہوا جائے
بدنام نظر