MOJ E SUKHAN

مری نگاہ کی کرنوں سے جب نہا جائے

غزل

مری نگاہ کی کرنوں سے جب نہا جائے
تم اس کو دیکھو تو بس دیکھتے رہا جائے

کسی کے غم کے سہارے ہی جی لیا جائے
جو یہ بھی پاس نہ ہووے تو کیا کیا جائے

تمہارے ہونٹوں پہ تالے مری زبان پہ مہر
چلو لتا کا کوئی گیت ہی سنا جائے

یہ پیڑ بانجھ ہے معلوم ہے ہمیں لیکن
جو پھل نہیں ہیں تو پھر پھول ہی چنا جائے

حقیقتوں سے تو دن رات پالا پڑتا ہے
کبھی کبھی کوئی افسانہ بھی سنا جائے

نہ مر ہی جاتا ہے وہ اور نہ جی ہی پاتا ہے
عجیب شخص ہے بس سوکھتا چلا جائے

یہ بڑھتے لوگ یہ سکڑا ہوا حیات کا گھر
کہو کہ اب کے کسی اور گھر خدا جائے

کبھی تو اترے کوئی دل کے سونے آنگن میں
پگھلتی آنکھوں میں اک خواب تو سما جائے

بلندیوں پہ تو اک عمر کاٹ دی میں نے
کبھی کبھی کسی پستی میں بھی گرا جائے

ہر ایک آنکھ پگھلتی ہی جاتی ہے بدنامؔ
ہر ایک چہرہ دھواں ہی دھواں ہوا جائے

بدنام نظر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم