MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پانی کہیں نہ سایہ کسی رہگزر میں تھا

غزل

پانی کہیں نہ سایہ کسی رہگزر میں تھا
سر پر کڑی تھی دھوپ مسافر سفر میں تھا

ہم نے بھی یہ سنا تھا شب غم گزر گئی
لیکن لہو کا رنگ نمود سحر میں تھا

مانا کہ اک سراب تھی رنگینئ حیات
کچھ لطف زندگی بھی فریب نظر میں تھا

کچھ ناتمام خواہشیں اور ولولوں کی لاش
لے کر یہ زاد راہ مسافر سفر میں تھا

ہر موڑ ہر روش پہ شگوفے کھلا گئی
افسوں یہ کس غضب کا تمہاری نظر میں تھا

بہزادؔ کیوں ہمیں پہ ہوئے پتھروں کے وار
ہر شخص یوں تو آپ ہی شیشے کے گھر میں تھا

بہزاد فاطمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم