MOJ E SUKHAN

یہ بیداد بہار فتنہ ساماں کون دیکھے گا

غزل

یہ بیداد بہار فتنہ ساماں کون دیکھے گا
بھری برسات میں جلتا گلستاں کون دیکھے گا

بچا لینا تو ممکن ہے بھنور سے اپنی کشتی کو
جو پوشیدہ ہو ساحل میں وہ طوفاں کون دیکھے گا

سر محفل تو پروانوں کو جلتا سب نے دیکھا ہے
ترا سوز دروں اے شمع گریاں کون دیکھے گا

لہو سے لکھ تو دی تاریخ آزادی اسیروں نے
کسے فرصت در و دیوار زنداں کون دیکھے گا

گل افشانی تو کرتی ہے ہماری چشم تر لیکن
اس اندھے شہر میں تزئین داماں کون دیکھے گا

نہ ہو آباد رندوں سے جو تیری انجمن ساقی
تیرے دست کرم کے جود و احساں کون دیکھے گا

یہاں تو فکر ہے بہزادؔ اپنے ہی گریباں کی
فقیر شہر کا چاک گریباں کون دیکھے گا

بہزاد فاطمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم