MOJ E SUKHAN

کیا ہوا جو دشمنوں کے درمیاں خنجر چلے

غزل

کیا ہوا جو دشمنوں کے درمیاں خنجر چلے
دوستوں میں بھی تو اکثر طنز کے پتھر چلے

لو فرشتوں کے پروں کی خوشبوئیں لہرا گئیں
دن ڈھلا اسکول سے بچے اب اپنے گھر چلے

سائباں در سائباں تھا چیختی روحوں کا شور
ایک گھر گھبرا کے گھر سے میرے بام و در چلے

بند کمرہ نیلی بتی اور مرا تنہا وجود
رات بھر دیوار پر رنگین سے منظر چلے

پھر سڑک پر بن رہے ہیں کتنے شیشے کے مکاں
دیکھیے پھر جھونپڑوں سے کب کوئی پتھر چلے

میکدے قانون کے بستر پہ جا کے سو چکے
رات آدھی جا چکی اب ہم بھی اپنے گھر چلے

بدنام نظر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم