غزل
آپ کے ذوق ستم کا غم نہیں
ہاں مگر اب زندگی میں دم نہیں
اے جفائے دوست یہ بھی کم نہیں
درد اب بھی ہے مگر اب غم نہیں
اس میں پڑھ لیتا ہوں تفسیر حیات
یہ مرا دل ہے یہ جام جم نہیں
آدمی کی خود فریبی الامان
اور اپنے دکھ بھی اب محرم نہیں
ان میں شامل ہے مرے دل کی تپش
اشک ہیں یہ قطرۂ شبنم نہیں
ترک مے سے اور بھی آیا سرور
ہوش بھی مدہوشیوں سے کم نہیں
میکشؔ ان کی نرگسی آنکھوں کا وار
کتنا قاتل ہے اگرچہ سم نہیں
استاد عظمت حسین خان