MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آپ کے ذوق ستم کا غم نہیں

غزل

آپ کے ذوق ستم کا غم نہیں
ہاں مگر اب زندگی میں دم نہیں

اے جفائے دوست یہ بھی کم نہیں
درد اب بھی ہے مگر اب غم نہیں

اس میں پڑھ لیتا ہوں تفسیر حیات
یہ مرا دل ہے یہ جام جم نہیں

آدمی کی خود فریبی الامان
اور اپنے دکھ بھی اب محرم نہیں

ان میں شامل ہے مرے دل کی تپش
اشک ہیں یہ قطرۂ شبنم نہیں

ترک مے سے اور بھی آیا سرور
ہوش بھی مدہوشیوں سے کم نہیں

میکشؔ ان کی نرگسی آنکھوں کا وار
کتنا قاتل ہے اگرچہ سم نہیں

استاد عظمت حسین خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم