MOJ E SUKHAN

یہ بھی جی چرا بیٹھی بار غم اٹھانے سے

غزل

یہ بھی جی چرا بیٹھی بار غم اٹھانے سے
زیست دے گئی دھوکہ موت کے بہانے سے

درد کو کسی پہلو چین ہی نہیں آتا
زندگی مصیبت ہے دل کے ٹوٹ جانے سے

فطرت محبت کا رنگ ہی نرالا ہے
یاد آتے جاتے ہیں اور وہ بھلانے سے

کس قدر تلون ہے آدمی کی فطرت میں
مطمئن نہیں ہوتا یہ کسی بہانے سے

آپ ہو گئے نالاں موت ہو گئی آساں
ختم ہو گیا طوفاں دل کے ڈوب جانے سے

نعرۂ انا الحق سے ہم تو صرف یہ سمجھے
بات تھی چھپانے کی کہہ گئے زمانے سے

پڑ گئی ہیں بنیادیں ہر جگہ نشیمن کی
گر گئے تھے تنکے کچھ میرے آشیانے سے

دوستوں سے اے میکشؔ بے رخی کا شکوہ کیا
رسم ہی محبت کی اٹھ گئی زمانے سے

استاد عظمت حسین خاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم