MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ عالم بھی عجب اک عالم مجبور ہوتا ہے

غزل

وہ عالم بھی عجب اک عالم مجبور ہوتا ہے
سفینہ غرق دریا اور ساحل دور ہوتا ہے

وہی تو جلوۂ بے تاب برق طور ہوتا ہے
جو دل میں جاگزیں ہو کر نظر سے دور ہوتا ہے

کیا کرتا ہے دعویٰ آدمی مختار ہونے کا
مگر یہ بے خبر تو مطلقاً مجبور ہوتا ہے

انا الحق اور زباں اک آدمی کی اے معاذ اللہ
کہیں سب کو میسر مشرب منصور ہوتا ہے

محبت میں کوئی اس شخص کی بے چارگی دیکھے
جو غم میں مسکرانے کے لئے مجبور ہوتا ہے

ذرا میکشؔ کو میخانے میں کوئی چھیڑ کر دیکھے
مگر اس وقت جب وہ بے خود و مخمور ہوتا ہے

استاد عظمت حسین خاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم