MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

فریب شوق نہ دے وقف امتحاں نہ بنا

غزل

فریب شوق نہ دے وقف امتحاں نہ بنا
مری طلب کو بس اب اور بھی گراں نہ بنا

عطائے دوست ہے یہ جنس رائیگاں نہ بنا
تجھے جو درد ملا ہے اسے فغاں نہ بنا

بنانا چاہے تو اب بجلیوں سے دے ترتیب
چمن میں اب کبھی تنکوں کا آشیاں نہ بنا

کبھی وہ فائز جلوہ ہے اور کبھی محروم
مجھے خود اپنے ہی دل سے تو بد گماں نہ بنا

سبھی کو ہو گیا اب تیرے عشق کا دعویٰ
کہا تو تھا کہ محبت کو داستاں نہ بنا

ہلاک درد محبت مجھی کو رہنے دے
نگاہ ناز کو غارت گر جہاں نہ بنا

رہا عذاب میں دل کا معاملہ میکشؔ
رہ وفا میں کوئی بھی تو رازداں نہ بنا

استاد عظمت حسین خاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم