MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

محسوس ہو رہا ہے جو غم میری ذات کا

غزل

محسوس ہو رہا ہے جو غم میری ذات کا
سچ پوچھیے تو درد ہے وہ کائنات کا

گھر کی گھٹن سے دور نکل جائے آدمی
سڑکوں پہ خوف ہو نہ اگر حادثات کا

اپنے بدن کو اور تھکاؤ نہ دوستو
ڈھل جائے دن تو بوجھ اٹھانا ہے رات کا

اک دوسرے کو زہر پلاتے ہیں لوگ اب
باتوں میں شہد گھول کے قند و نبات کا

ہر شخص تیرے شہر میں مجرم بنا ہوا
پھرتا ہے ڈھونڈھتا ہوا رشتہ نجات کا

اس میں کسی کا عکس نہ چہرہ دکھائی دے
دھندلا گیا ہے آئنہ خاورؔ حیات کا

بدیع الزماں خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم