MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ایک پری کی زلفوں میں یوں پھنسا ہوا ہے چاند

غزل

ایک پری کی زلفوں میں یوں پھنسا ہوا ہے چاند
ہم کو لگتا ہے بادل میں چھپا ہوا ہے چاند

پہلی شام نظر آیا تھا بالکل ایسا جیسے ناخن
چودہ دن میں دیکھو کتنا بڑا ہوا ہے چاند

اس نے پیڑ سے کود کے جانے کتنے غوطے کھائے
بندر کو جب لگا ندی میں گرا ہوا ہے چاند

تھوڑا سا نیچے آئے تو اس کو ہم بھی چھو لیں
بتی جیسا یہ جو اوپر جلا ہوا ہے چاند

سچ کیا ہے یہ چاند پہ جا کر کاش اک دن میں دیکھوں
سب بتلاتے ہیں پتھر کا بنا ہوا ہے چاند

بدیع الزماں ؐاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم