MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کب بیاباں راہ میں آیا یہ سمجھا ہی نہیں

غزل

کب بیاباں راہ میں آیا یہ سمجھا ہی نہیں
چلتے رہنے کے سوا دھیان اور کچھ تھا ہی نہیں

کرب منزل کا ہو کیا احساس ان اشجار کو
جن کے سائے میں مسافر کوئی ٹھہرا ہی نہیں

کس کو بتلاتے کہ آئے ہیں کہاں سے کون ہیں
ہم فقیروں کا کسی نے حال پوچھا ہی نہیں

کیا طلب کرتا کسی سے زندگی کا خوں بہا
مجرموں میں میرا قاتل کوئی نکلا ہی نہیں

بے تحاشا پیار کی دولت لٹائی عمر بھر
دوستی کا ہم نے کچھ انجام سوچا ہی نہیں

گھومتا پایا گیا تھا شہر میں وہ ایک دن
پھر کسی نے تیرے دیوانے کو دیکھا ہی نہیں

دوستو خاورؔ سنائے کیا تمہیں تازہ غزل
مدتوں سے اس نے کوئی شعر لکھا ہی نہیں

بدیع الزماں خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم