MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جب دل میں غرور آئے تو دانائی بھی کیا ہے

غزل

جب دل میں غرور آئے تو دانائی بھی کیا ہے
جب رات اندھیری ہو تو بینائی بھی کیا ہے

جب ڈوبنا ٹھہرا ہے تو طوفاں کا کسے خوف
جب اشک سمندر ہوں تو گہرائی بھی کیا ہے

جب زخم ہوں سینے میں تو پھر درد ہے کیا چیز
گلشن میں مرے موج ہوا لائی بھی کیا ہے

پھر غیر کے ہر جھوٹ پہ کرتا ہے یقیں وہ
پھر شوق کو سکتہ ہے کہ سچائی بھی کیا ہے

پھر عمر گریزاں نے کہا جاؤ چلے جاؤ
کیا اس سے کہو گے وہاں سنوائی بھی کیا ہے

پھر دل نے کہا ہنس کے وہ صحرا ہو قفس ہو
جب اس سے بچھڑنا ہے تو تنہائی بھی کیا ہے

پھر ذکر مرا سن کے کہا اس نے رئیسؔ ایک
بس چاک گریباں ہے وہ سودائی بھی کیا ہے

محمد رئیس علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم