MOJ E SUKHAN

میں جب پہلے پہل اس شہر نا پرساں میں آیا تھا

غزل

میں جب پہلے پہل اس شہر نا پرساں میں آیا تھا
سبھی اپنے نظر آتے تھے لیکن کون اپنا تھا

حسیں تھے دور ہی سے ساحل و دریا کے نظارہ
مگر جب ڈوب کر دیکھا تو ساحل تھا نہ دریا تھا

اسے ان فاصلوں کا کچھ نہ کچھ احساس تو ہوگا
کبھی جس شخص کے سینے میں میرا دل دھڑکتا تھا

سمٹ آیا ہو جیسے درد میرا اس کے لہجے میں
نہ جانے آج کس عالم میں اس نے حال پوچھا تھا

کہاں تک دل میں شہر آرزو آباد رکھتے ہم
جب اپنے سامنے حد نظر تک غم کا صحرا تھا

جہاں بھر کو خبر کیسے ہوئی ترک تعلق کی
مجھے تم سے تعلق تھا جہاں سے واسطہ کیا تھا

رحمان خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم