MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں

غزل

دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں
اب رات کے دریا میں پڑا ڈوب رہا ہوں

اب تک میں وہیں پر ہوں جہاں سے میں چلا ہوں
آواز کی رفتار سے کیوں بھاگ رہا ہوں

رکھتے ہو اگر آنکھ تو باہر سے نہ دیکھو
دیکھو مجھے اندر سے بہت ٹوٹ چکا ہوں

یہ سب تری مہکی ہوئی زلفوں کا کرم ہے
اک سانس میں اک عمر کے دکھ بھول گیا ہوں

تو جسم کے اندر ہے کہ باہر ہے کدھر ہے
علویؔ مری جاں کب سے تجھے ڈھونڈ رہا ہوں

محمد علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم