غزل
جو یار کا منشا ہے شایان اطاعت ہے
اپنا یہی مذہب ہے اپنی یہی ملت ہے
اللہ میں بندے میں تمیز ہی نسبت ہے
سمجھو تو یہی دوری دوری نہیں قربت ہے
مطلوب ہو یا طالب تفریق کی صورت ہے
اس فرق کا اٹھنا ہی تکمیل محبت ہے
دونوں میں برابر کا احساس محبت ہے
جو عشق کی صورت ہے وہ حسن کی صورت ہے
ان سے مجھے نسبت ہے مجھ سے انہیں نسبت ہے
قربان محبت کے کیا شان محبت ہے
برباد جو ہوتا ہے بنتا ہے وہی کاملؔ
ہر بے سر و سامانی سامان محبت ہے
کامل شطاری