MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو یار کا منشا ہے شایان اطاعت ہے

غزل

جو یار کا منشا ہے شایان اطاعت ہے
اپنا یہی مذہب ہے اپنی یہی ملت ہے

اللہ میں بندے میں تمیز ہی نسبت ہے
سمجھو تو یہی دوری دوری نہیں قربت ہے

مطلوب ہو یا طالب تفریق کی صورت ہے
اس فرق کا اٹھنا ہی تکمیل محبت ہے

دونوں میں برابر کا احساس محبت ہے
جو عشق کی صورت ہے وہ حسن کی صورت ہے

ان سے مجھے نسبت ہے مجھ سے انہیں نسبت ہے
قربان محبت کے کیا شان محبت ہے

برباد جو ہوتا ہے بنتا ہے وہی کاملؔ
ہر بے سر و سامانی سامان محبت ہے

کامل شطاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم