MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل میں دھڑکن ہے نہ آنکھوں میں نظر باقی ہے

غزل

دل میں دھڑکن ہے نہ آنکھوں میں نظر باقی ہے
پھر بھی سب کچھ ہے غم یار اگر باقی ہے

اور کچھ لوٹ لے افتاد محبت کے مزے
کچھ تماشا جو ابھی شعبدہ گر باقی ہے

ہم کسی اور کی دہلیز پہ سر کیوں پھوڑیں
سر سودا زدہ باقی ترا در باقی ہے

قوت عشق پہ تکیہ بھی ہے توہین نیاز
کیوں ابھی تک مری آہوں میں اثر باقی ہے

جتنے در بند ہیں اللہ کرے بند رہیں
تیرے بندوں کے لئے جب ترا در باقی ہے

اور کچھ حق جنوں ہے تو ادا کر دیں گے
ایک بھی تار گریباں میں اگر باقی ہے

پستیٔ عقل ہے تاریکیٔ قسمت کا سوال
شب یہ کہتی ہے کہ ہنگام سحر باقی ہے

عیب کو عیب سمجھنا تو نئی بات نہیں
عیب یہ بھی ہے کہ احساس ہنر باقی ہے

بیڑیاں کٹ گئیں ہر پائے نگہ کی کاملؔ
اب تو بے قید بس اک ذوق نظر باقی ہے

کامل شطاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم