MOJ E SUKHAN

جو دل ہو جلوہ گاہ ناز اس میں غم نہیں ہوتا

غزل

جو دل ہو جلوہ گاہ ناز اس میں غم نہیں ہوتا
جہاں سرکار ہوتے ہیں وہاں ماتم نہیں ہوتا

ہوس آخر ہوس ٹھہری ہوس کا ذکر ہی کیا ہے
مگر جب عشق ہو جاتا ہے پھر وہ کم نہیں ہوتا

جگر کے زخم بھرتے ہیں نہ دل کے داغ مٹتے ہیں
محبت کی جراحت کا کہیں مرہم نہیں ہوتا

مقام قرب میں بھی ہیں وہی بے تابیاں باقی
کسی منزل میں ہو دل کا تڑپنا کم نہیں ہوتا

غرور عبدیت بھی اللہ اللہ کچھ عجب شئے ہے
ترے در کے سوا یہ سر کہیں بھی خم نہیں ہوتا

تڑپنے سے ذرا سا مل تو جاتا ہے سکوں کاملؔ
مگر اس طرح درد دل کسی کا کم نہیں ہوتا

کامل شطاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم