غزل
اک تبسم ہمہ ایام گراں باری بھی
نعمت خلد ہے فطرت میں سبک ساری بھی
اک زمانے بڑا خاموش رہا ذہن رسا
اب تو باہر کو ابلتی ہے یہ الماری بھی
عین ممکن ہے تنفس کی سہولت نہ رہے
کس کو راس آئی ہے مرضی سے گرفتاری بھی
جنگ کا فیصلہ عجلت میں نہیں کرنا تھا
تو قبیلہ بھی گنوا بیٹھا ہے سرداری بھی
دوست برسوں سے یہی طور چلا آتا ہے
مرا ایقان سلامت تری عیاری بھی
ہم دل خانماں برباد لیے پھرتے ہیں
ہائے کیا شے ہے محبت کی عزا داری بھی
بشریٰ مسعود