MOJ E SUKHAN

چاہے کھوٹے ہیں یا کھرے ہیں ہم

غزل

چاہے کھوٹے ہیں یا کھرے ہیں ہم
دست قدرت کے لاڈلے ہیں ہم

عکس رفتہ کو دیکھیے صاحب
کتنے معصوم لگ رہے ہیں ہم

رات جیون کا گیت گاتی ہے
خواب تنویم دیکھتے ہیں ہم

عمر لگ جائے گی سنبھلنے میں
کس بلندی سے یوں گرے ہیں ہم

ایک ہنگام ہے تغیر کا
کنج نسیان میں پڑے ہیں ہم

اب بھی مہندی کا رنگ گہرا ہے
صندلیں ہاتھ پر رچے ہیں ہم

اک تماشا ہے کار زار حیات
دیکھ کر سیر ہو چکے ہیں ہم

جھلملاتے ہیں آرزو کے کنول
دل جھروکے سے جھانکتے ہیں ہم

بشریٰ مسعود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم