MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گیروے کپڑے بدن پر ہاتھ لوہے کے کڑے

غزل

گیروے کپڑے بدن پر ہاتھ لوہے کے کڑے
لے ملامت دار صوفی در پہ تیرے آ پڑے

اختیارات دیار دہر حاصل ہوں مجھے
مہر سے سونا کشیدوں ماہ سے چاندی جھڑے

بھیج دے مجھ کو جہان حسیات و لمس میں
شور سے الجھے سماعت آنکھ سے منظر لڑے

سرخ اینٹوں کی گلی تک جائیں ہم دیوانہ وار
دفعتاً اپنی نگہ اس کے دریچے پر پڑے

اس تعفن گاہ سا اک اور سیارہ بھی ہو
پیڑ مرتے ہوں جہاں تالاب میں پانی سڑے

ہر مسیحائے زماں کو خیر مقدم چاہیے
تاج ہو کانٹوں کا سر پر میخ ہاتھوں میں گڑے

احمد جہانگیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم