MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خواہش شربت دیدار کروں یا نہ نہ کروں

غزل

خواہش شربت دیدار کروں یا نہ نہ کروں
میں علاج دل بیمار کروں یا نہ کروں

طلب وصل پہ اصرار کروں یا نہ کروں
بوسے لے کر اسے بیزار کروں یا نہ کروں

نالے شب کو پس دیوار کروں یا نہ کروں
خواب سے یار کو بیدار کروں یا نہ کروں

مجھ سے کہتے ہیں بتاؤ تو مرے سر کی قسم
مرغ دل کو میں گرفتار کروں یا نہ کروں

یا الٰہی مجھے اس میں ہے تردد کل سے
دل یہ میں پیشکش یار کروں یا نہ کروں

چھین کر دل مرے پہلو سے نہ لے جائے کہیں
ترک میں الفت دل دار کروں یا نہ کروں

یا الٰہی کہیں اسرار نہ ہوویں اس میں
طائر دل میں گرفتار کروں یا نہ کروں

سخت مشکل مجھے درپیش ہوئی ہے کل سے
آج عشق بت پندار کروں یا نہ کروں

نیچے تلوار کے ثابت قدمی مشکل ہے
سر کے دینے کا میں اقرار کروں یا نہ کروں

خوف مجھ کو ہے کہ نازک ہے طبیعت ان کی
بوسے لینے پہ میں اصرار کروں یا نہ کروں

پار دل کی نہ کہیں تیر نظر ہو جائے
آنکھیں اس شوخ سے میں چار کروں یا نہ کروں

آتش ہجر سے دل میرا جلایا تم نے
منہ سے میں آہ شرربار کروں یا نہ کروں

میرے دل سے ہے یہ اک رشک زلیخا کا سوال
مثل یوسف کے تجھے پیار کروں یا نہ کروں

وعدۂ وصل جو اس سے بقسم لیتا ہوں
دل سے کہتے ہیں میں اقرار کروں یا نہ کروں

آپ کی رائے ہے کیا حضرت موسیٰ اس میں
طور پر خواہش دیدار کروں یا نہ کروں

قبر میں شانہ ہلا کر وہ مرا کہتے ہیں
خواب غفلت سے میں بیدار کروں یا نہ کروں

بے وفا ایک طلب کرتا ہے مجھ سے فاخرؔ
دل کے دینے میں میں انکار کروں یا نہ کروں

فاخر لکھنوئی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم