MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تمہیں پانے کی چاہت ہے مگر کھونے کا ڈر بھی ہے

غزل

تمہیں پانے کی چاہت ہے مگر کھونے کا ڈر بھی ہے
کہ دل شہر تمنا ہے تو محرومی کا گھر بھی ہے

وفا کے باغ میں جھولے پڑے ہیں آرزوؤں کے
دعاؤں کی ہری بیلوں پہ خواہش کا ثمر بھی ہے

فصیل فکر پہ یادوں کی قندیلیں بھی ضو افشاں
تمہاری منتظر میں ہی نہیں یہ چشم تر بھی ہے

مسافت نا امیدی کی پڑی ہے پاؤں میں میرے
تمہاری ہمرہی بھی ہے مگر تنہا سفر بھی ہے

چمکتی کانچ جیسی دھڑکنوں کو توڑنے والا
وہ پتھر دل بہت مانا ہوا اک شیشہ گر بھی ہے

سنو تم کہہ رہے تھے ناں دعا میں مانگ لو مجھ کو
مگر تم سوچ لو میری دعاؤں میں اثر بھی ہے

ہماری ایک خامی ہے تمہاری ذات میں کھونا
تمہیں تم سے چرا لینا ہمارا اک ہنر بھی ہے

سنو اس چاند سے کہنا میرے آنگن میں بھی اترے
سڑک کے پار کچے راستے پر میرا گھر بھی ہے

کنولؔ اعزاز بھی کہتی ہے اس کو جرم بھی دنیا
کہ بد نام زمانہ بھی محبت معتبر بھی ہے

کنول ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم