MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مجھ کو قسمت سے مل گیا تھا وہ

غزل

مجھ کو قسمت سے مل گیا تھا وہ
اف مقدر میں کب لکھا تھا وہ

میں گئی حال دل سنانے کو
اور رش میں گھرا ہوا تھا وہ

جس کو ترسی رہیں مری آنکھیں
سامنے ہی کھڑا ہوا تھا وہ

جس کی خاطر سنور کے آئی میں
اک نظر بھی نہ دیکھتا تھا وہ

اس کے چہرے کو پڑھ رہی تھی میں
ایک کاغذ پہ لکھ رہا تھا وہ

دل کی دھڑکن بھی تیز ہو گئی تھی
ایسے رک رک کے بولتا تھا وہ

اس کا لہجہ کہ گڑ سے میٹھا تھا
چاشنی ایسے گھولتا تھا وہ

میں نے پھولوں سے بھر لیا آنچل
کہ اچانک ہی ہنس دیا تھا وہ

میں بھی چپ تھی کہ اس سے کہتی کیا
اور آنکھوں کو پڑھ رہا تھا وہ

میں نے چائے جو پیش کی تھی اسے
اک تکلف میں پڑ گیا تھا وہ

ایک چائے کیا جان دیتی میں
شکریہ ایسے کہہ رہا تھا وہ

وہ جو برسوں سے روک رکھا تھا
میرے ہونٹوں پہ آ گیا تھا وہ

پھر میرے لفظ ہی نہیں بولے
اور چپ چاپ سن رہا تھا وہ

ایک ضد پر اڑی ہوئی تھی میں
اک انا میں پڑا ہوا تھا وہ

میرے آنسو بھی دیکھ نہ پایا
خوش رہیں آپ کہہ رہا تھا وہ

میں نے سوچا کہ کچھ تو پوچھے گا
جا رہی تھی میں چپ کھڑا تھا وہ

اس کو حیرت سے دیکھتی تھی میں
مجھ کو حیرت سے دیکھتا تھا وہ

آخری نظم لکھ کر آ گئی میں
پھر مری نظم پڑھ رہا تھا وہ

میرے سجدے بھی ہو گئے تھے قضا
یاد سجدوں میں آ گیا تھا وہ

میں نے باندھی نماز عشق کنولؔ
میرے پہلو میں جب کھڑا تھا وہ

کنول ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم