MOJ E SUKHAN

ہمارے درمیاں قربت کہاں تھی

غزل

ہمارے درمیاں قربت کہاں تھی
وہ مل جاتا مری قسمت کہاں تھی

اسے چاہا اسی کے خواب دیکھے
سوا اس کے مجھے فرصت کہاں تھی

مرے دل میں اٹھے طوفان لاکھوں
مگر لہجے میں وہ شدت کہاں تھی

بہت مصروف رہتا تھا وہ آخر
اسے میرے لئے فرصت کہاں تھی

مجھے کہنا تھا حال دل بھی اس سے
مگر کہنے کی بھی مہلت کہاں تھی

اسے کھونے کا خدشہ بھی تھا لیکن
اسے پانے کی بھی چاہت کہاں تھی

اسے کہتی مگر کیسے میں کہتی
اسے کہنے کی بھی ہمت کہاں تھی

وہ مجھ سے دور تھا برسوں سے لیکن
نظر سے دور وہ صورت کہاں تھی

مجھے بس اس کا لہجہ چومنا تھا
سوا اس کے کوئی حاجت کہاں تھی

کنول ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم