MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ تو نہیں کہ ہم پہ ستم ہی کبھی نہ تھے

غزل

یہ تو نہیں کہ ہم پہ ستم ہی کبھی نہ تھے
اتنا ضرور تھا کہ وہ نا گفتنی نہ تھے

اے چشم التفات یہ کیا ہو گیا تجھے
تیری نظر میں ہم تو کبھی اجنبی نہ تھے

پھرتے ہیں آفتاب زدہ کائنات میں
ہم پر کسی کی زلف کے احساں کبھی نہ تھے

پامال کر دیا جو فلک نے تو کیا کہیں
ہم تو کسی کمال کے بھی مدعی نہ تھے

کیا جرم تھا یہ آج بھی ہم پر نہیں کھلا
یہ علم ہے کہ اہل جنوں کشتنی نہ تھے

ہر لمحہ تیرے عشق میں عمر ابد بنا
جو دن بھی زندگی کے ملے عارضی نہ تھے

مرجھا کے بھی گئی نہ مہک جسم ناز کی
یہ موتیے کے پھول کوئی کاغذی نہ تھے

یاران شہر عشق میں بے آبرو ہوئے
ہم پر تو مہرباں وہ کبھی تھے کبھی نہ تھے

اقلیم عاشقی کو دیا دین شاعری
ہم صاحب کتاب تھے گرچہ نبی نہ تھے

ہم جن کی نذر کرتے جواہر کلام کے
طاہرؔ ہمارے شہر میں وہ جوہری نہ تھے

جعفر طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم