MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ تمنا تھی کہ ہم اتنے سخنور ہوتے

غزل

یہ تمنا تھی کہ ہم اتنے سخنور ہوتے
اک غزل کہتے تو آباد کئی گھر ہوتے

دوریاں اتنی دلوں میں تو نہ ہوتیں یا رب
پھیل جاتے یہ جزیرے تو سمندر ہوتے

اپنے ہاتھوں پہ مقدر کے نوشتے بھی پڑھ
نہ سہی معنی ذرا لفظ تو بہتر ہوتے

دل پہ اک وحی اور الہام کا رہتا ہے سماں
ہم اگر رند نہ ہوتے تو پیمبر ہوتے

ہم اگر دل نہ جلاتے تو نہ جلتے یہ چراغ
ہم نہ روتے جو لہو آئنے میں پتھر ہوتے

ہم اگر جام بکف رقص نہ کرتے رہتے
تیری راہوں میں ستارے نہ گل تر ہوتے

گھر بنا بیٹھے بیاباں میں دوانے ورنہ
پاؤں اٹھ جاتے تو جبریل کا شہ پر ہوتے

صورتیں یوں تو نہ یاروں کی رلاتی رہتیں
اے غم مرگ یہ صدمے تو نہ دل پر ہوتے

ہم رہے گرچہ تہی دست ہی جعفر طاہرؔ
بس میں یہ بات بھی کب تھی کہ ابوذر ہوتے

جعفر طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم