MOJ E SUKHAN

مسلسل امتحاں سے تھک چکا ہوں

غزل

مسلسل امتحاں سے تھک چکا ہوں
میں اب عمر رواں سے تھک چکا ہوں

مجھے اب خاک مرقد میں چھپا دو
کہ جسم ناتواں سے تھک چکا ہوں

کوئی تو آ بسے دل میں مرے بھی
اب اس خالی مکاں سے تھک چکا ہوں

اب اپنی ذات بھی ہے بوجھ مجھ پر
میں اس کوہ گراں سے تھک چکا ہوں

مرا رستہ تو طارقؔ کٹ گیا پر
تمہاری داستاں سے تھک چکا ہوں

اقبال طارق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم