MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خواہشوں کی کتاب تھے جب تھے

غزل

خواہشوں کی کتاب تھے جب تھے
زندگی کا نصاب تھے جب تھے

اپنی انگلی پکڑ کے چلتے تھے
خود کو ہم دستیاب تھے جب تھے

طاق ماضی کے یہ اداس دیے
شوق میں آفتاب تھے جب تھے

اپنی آنکھوں میں اب کھٹکتے ہیں
چشم یاراں کا خواب تھے جب تھے

اب میسر کہاں ہیں خود کو بھی
ہاں ترے بے حساب تھے جب تھے

یہ جو آنکھیں بجھی بجھی ہیں ناں
ان میں بھی چند خواب تھے جب تھے

اب جو سوکھے پڑے ہیں قبروں پر
یہ بھی تازہ گلاب تھے جب تھے

اقبال طارق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم