MOJ E SUKHAN

اس کی وفا نہ میری وفا کا سوال تھا

غزل

اس کی وفا نہ میری وفا کا سوال تھا
دونوں ہی چپ تھے صرف انا کا سوال تھا

اس کشمکش میں ختم ہوا رات کا سفر
ضد تھی مری تو اس کی حیا کا سوال تھا

سب منتظر تھے آسماں دیتا ہے کیا جواب
پیاسے لبوں پہ کالی گھٹا کا سوال تھا

مجبور ہم تھے اور وہ مختار تھا مگر
دونوں کے بیچ دست دعا کا سوال تھا

جانا تھا میکدے سے ہمیں کوئے یار تک
لیکن ہماری لغزش پا کا سوال تھا

تقسیم کرنے نکلا تھا وہ روشنی مگر
جلتے ہوئے دئے کو ہوا کا سوال تھا

داناؔ مجھے ازل سے غزل کی تلاش تھی
یہ میری زندگی کی ادا کا سوال تھا

عباس دانا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم