MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس کی ہستی قضا کی قید میں ہے

غزل

اس کی ہستی قضا کی قید میں ہے
جو پرندہ ہوا کی قید میں ہے

اس سے بہتر ہے یار مر جاؤں
میرا جینا خدا کی قید میں ہے

شب سے خائف ہے نیند کی تتلی
خواب دست حنا کی قید میں ہے

دل مری آنکھ میں دھڑکتا ہے
آنکھ تیری ادا کی قید میں ہے

سب قبیلے ہیں خون کے پیاسے
ساری بستی انا کی قید میں ہے

چھوڑ کر پھر سے لوٹ آتا ہے
تو مری کس دعا کی قید میں ہے

وہ ضیا کو بھی پھونک سکتا ہے
جو اندھیرا ضیا کی قید میں ہے

وہ ہے آزاد ہر حوالے سے
جو بشر کربلا کی قید میں ہے

میں جوانی میں ہو گیا بوڑھا
ابتدا انتہا کی قید میں ہے

تم شفا ڈھونڈتے ہو دنیا میں
اور وہ خاک شفا کی قید میں ہے

جان راہبؔ سماعتوں کا ہجوم
تری اندھی صدا کی قید میں ہے

عمران راہب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم