MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

شال چھوٹی ہی سہی رکھ لو بڑی ٹھیک نہیں

غزل شال چھوٹی ہی سہی رکھ لو بڑی ٹھیک نہیں تم پہ نکھرے گی بہت گھر میں پڑی ٹھیک نہیں میں نے پوچھا ہے کہ چائے کے لیے وقت کوئی ہنس کے بولی ہے اشارے سے گھڑی ٹھیک نہیں اک تماشا ہے وہ میری ہے نہیں میری ہے یہ جو کھڑکی میں ہے دوشیزہ کھڑی […]

شال چھوٹی ہی سہی رکھ لو بڑی ٹھیک نہیں Read More »

اجاڑ گھر میں اداس چہرہ تھا یعنی میں تھا

غزل اجاڑ گھر میں اداس چہرہ تھا یعنی میں تھا وہ جس کی آنکھوں میں بہتا دریا تھا یعنی میں تھا جو پینٹنگ میں حسین لڑکی تھی یعنی تو تھی جو سر جھکائے اداس لڑکا تھا یعنی میں تھا وہ تو ہے جس پہ ہے جھیل سیف الملوک مرتی وہ جس کی مٹھی میں بانجھ

اجاڑ گھر میں اداس چہرہ تھا یعنی میں تھا Read More »

اب آپ کہہ رہے ہیں کہ چہرہ اداس ہے

غزل اب آپ کہہ رہے ہیں کہ چہرہ اداس ہے میں نے سنا تھا آپ کا کمرہ اداس ہے گردن ہے خودکشی کے بہانے تلاشتی ہر روز مجھ سے کہتی ہے پنکھا اداس ہے بارش میں بھیگتی ہوئی لڑکی کو کیا خبر فٹ پاتھ پر پڑا ہوا چھاتا اداس ہے کوئی نہ دیکھ پایا تو

اب آپ کہہ رہے ہیں کہ چہرہ اداس ہے Read More »

لہو میں خاک شفا گوندھنے کی خواہش تھی

غزل لہو میں خاک شفا گوندھنے کی خواہش تھی مجھے حسین سے کچھ مانگنے کی خواہش تھی وہ جس پسر کے جگر میں اتر گئی برچھی اسی پسر کو جواں دیکھنے کی خواہش تھی مری تلاش مجھے کربلا میں لے آئی مجھے زمیں پہ خدا ڈھونڈنے کی خواہش تھی جنہوں نے لوٹا تھا مولا حسین

لہو میں خاک شفا گوندھنے کی خواہش تھی Read More »

پیار کرتی ہے مگر پھر بھی مکر سکتی ہے

غزل پیار کرتی ہے مگر پھر بھی مکر سکتی ہے کیا بھروسہ ہے کسی اور پہ مر سکتی ہے کیا سمجھتی ہو کہ باندھا ہے مجھے بندھن میں یہ انگوٹھی ہے مری جان اتر سکتی ہے چھوٹ سکتی ہے ترے گاؤں کی مٹی مجھ سے یہ قیامت بھی کسی روز گزر سکتی ہے چاند نے

پیار کرتی ہے مگر پھر بھی مکر سکتی ہے Read More »

پھر یوں ہوا کہ آگ سے چہرہ جلا دیا

غزل پھر یوں ہوا کہ آگ سے چہرہ جلا دیا کس نے عظیم شہر کا نقشہ جلا دیا کل پنچھیوں نے قید میں اک فیصلے کے بعد بدلے کی سرد آگ سے پنجرہ جلا دیا تاوان جو نہیں ملا شہ رگ کو کاٹ کر بچے کی لاش پھینک دی بستہ جلا دیا آندھی کی پھر

پھر یوں ہوا کہ آگ سے چہرہ جلا دیا Read More »

کہیں جنگل اگاتے ہیں کہیں آہو بناتے ہیں

غزل کہیں جنگل اگاتے ہیں کہیں آہو بناتے ہیں مصور ہیں ترے پہلو کو صد پہلو بناتے ہیں بھلا کیا قتل پر اپنے رقیبوں سے گلہ کہ وہ مرا نافہ جدا کر کے تری خوشبو بناتے ہیں تحمل سیکھ ہم سے گفتگو کر نرم لہجے میں کہ سب تیرے رویے ہی کو اپنی خو بناتے

کہیں جنگل اگاتے ہیں کہیں آہو بناتے ہیں Read More »

گردش دشت تمنا سے ملا کچھ بھی نہیں

غزل گردش دشت تمنا سے ملا کچھ بھی نہیں غلغلہ ہونے کا سنتے تھے ہوا کچھ بھی نہیں ہر حقیقت واہمہ ہے واہمہ کچھ بھی نہیں دیکھنے میں سب خدا ہے اور خدا کچھ بھی نہیں جذبۂ تعمیر میں اک خواہش تخریب تھی کچھ بنانا تھا اسے لیکن بنا کچھ بھی نہیں جب سے چیزوں

گردش دشت تمنا سے ملا کچھ بھی نہیں Read More »

کمخواب تھے اوروں کو جگاتے ہوئے گزرے

غزل کمخواب تھے اوروں کو جگاتے ہوئے گزرے ہم وقت سحر ڈھول بجاتے ہوئے گزرے اک جادۂ‌ پر خار تھی دشوار تھی دنیا عشاق مگر جھومتے گاتے ہوئے گزرے ہر ناز صبا رشک چمن حسن مجسم پتھرائے اگر آنکھ ملاتے ہوئے گزرے اک زیست کی وادی تھی مگر یاد نہیں ہے آتے ہوئے گزرے تھے

کمخواب تھے اوروں کو جگاتے ہوئے گزرے Read More »

لمحے شب وصال کے صرف وصال ہو گئے

غزل لمحے شب وصال کے صرف وصال ہو گئے اس کو بھی نیند آ گئی ہم بھی نڈھال ہو گئے کیسے حسین لوگ تھے کیسی حسین محفلیں وہ جو خیال و خواب تھے خواب و خیال ہو گئے میں بھی تھا رشک آئینہ تم بھی تھے رشک آئینہ میں بھی سفال ہو گیا تم بھی

لمحے شب وصال کے صرف وصال ہو گئے Read More »