MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یوں دیکھ نہ بے کار کا کٹھ پتلی تماشا

غزل

یوں دیکھ نہ بے کار کا کٹھ پتلی تماشا
اس دور فسوں کار کا کٹھ پتلی تماشا

اس شہر کا ہر جھوٹا خدا دیکھ رہا ہے
حق دار کی دستار کا کٹھ پتلی تماشا

مت پوچھ ہے کل رات سے تکرار کی زد میں
تصویر سے دیوار کا کٹھ پتلی تماشا

پازیب کی جھنکار پہ اب خوب سجے گا
ام شام بھی بازار کا کٹھ پتلی تماشا

خاموش نہیں خون میں شدت سے رواں ہے
مقتل میں ابھی دار کا کٹھ پتلی تماشا

عورت کی کہانی ہو کہ راہبؔ کا فسانہ
فن کار ہے کردار کا کٹھ پتلی تماشا

عمران راہب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم