MOJ E SUKHAN

کوئی مجنوں کوئی فرہاد بنا پھرتا ہے

غزل

کوئی مجنوں کوئی فرہاد بنا پھرتا ہے
عشق میں ہر کوئی استاد بنا پھرتا ہے

جس سے تعبیر کی اک اینٹ اٹھائی نہ گئی
خواب کے شہر کی بنیاد بنا پھرتا ہے

پہلے کچھ لوگ پرندوں کے شکاری تھے یہاں
اب تو ہر آدمی صیاد بنا پھرتا ہے

دھوپ میں اتنی سہولت بھی غنیمت ہے مجھے
ایک سایہ مرا ہم زاد بنا پھرتا ہے

باغ میں ایسی ہواؤں کا چلن عام ہوا
پھول سا ہاتھ بھی فولاد بنا پھرتا ہے

نقش بر آب تو ہم دیکھتے آئے لیکن
نقش یہ کون سا برباد بنا پھرتا ہے

عمران عامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم