MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کوئی بیٹھا رہا شباب سمیت

غزل

کوئی بیٹھا رہا شباب سمیت
اور میں سو گیا کتاب سمیت

یہ کہا تھا ترا جواب نہیں
پھر کوئی آ گیا جواب سمیت

میں ترے خالی ہاتھ کے قربان
مجھ سے ملنا مگر گلاب سمیت

ملنے آیا ہے کوئی جان غزل
میرؔ صاحب کے انتخاب سمیت

نیند آتی ہے کروٹیں لے کر
رنج کے ساتھ اضطراب سمیت

ڈوب جانے میں کوئی حرج نہیں
ڈوبنا ہو اگر شراب سمیت

اکرام عارفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم