MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

لمحہ مری گرفت میں آیا نکل گیا

غزل   لمحہ مری گرفت میں آیا نکل گیا جیسے کسی نے ہاتھ ملایا نکل گیا کانٹا سا اک چبھا تھا مرے دل میں خوف مرگ میں نے ذرا سا زور لگایا نکل گیا شیطان میری ذات کے اندر مقیم تھا لوبان کوٹھری میں جلایا نکل گیا جب رات خوب ڈھل گئی سویا مرا وجود […]

لمحہ مری گرفت میں آیا نکل گیا Read More »

نے آدمی پسند نہ اس کو خدا پسند

غزل نے آدمی پسند نہ اس کو خدا پسند ہے آئینے میں قید مرا آئینہ پسند وہ چار دن بھی ہم سے نباہی نہیں گئی وہ معتدل مزاج تھا میں انتہا پسند وہ خود فریب شخص تھا پتھر شناس تھا آیا نہ اس کو کوئی بھی اپنے سوا پسند جب کوئی فرق شاہد و مشہود

نے آدمی پسند نہ اس کو خدا پسند Read More »

ہر برہمن بت ہر اک مسلم خدا لے جائے گا

غزل ہر برہمن بت ہر اک مسلم خدا لے جائے گا میرے در سے ہر مریض اپنی دوا لے جائے گا خود مجھے آنا ہے تیرے پاس یا بردہ ترا میرے پاس آئے گا اور مجھ کو اٹھا لے جائے گا میں حد فاصل تک آ پہنچا جو شوق وصل میں وہ حد فاصل کو

ہر برہمن بت ہر اک مسلم خدا لے جائے گا Read More »

مکان ہی نہ بنائے گئے زمیں کم تھی

غزل مکان ہی نہ بنائے گئے زمیں کم تھی شجر ہوا میں اگائے گئے زمیں کم تھی میں اس جگہ ہوں جہاں سے پلٹ کے سورج میں پناہ ڈھونڈنے سائے گئے زمیں کم تھی بشر مقیم تھے قبروں میں اور نئے مردے سمندروں میں بہائے گئے زمیں کم تھی ہمیں بھی لوٹ ہی جانا ہے

مکان ہی نہ بنائے گئے زمیں کم تھی Read More »

یہاں ہر شخص اپنے گھر سے کم باہر نکلتا ہے

غزل یہاں ہر شخص اپنے گھر سے کم باہر نکلتا ہے بدن کھو بیٹھنے کے ڈر سے کم باہر نکلتا ہے کوئی سودا مرے سر میں سماتا ہی نہیں لیکن سما جائے تو پھر وہ سر سے کم باہر نکلتا ہے جہاں سورج برس میں ایک یا دو دن چمکتا ہو وہاں سایہ کسی پیکر

یہاں ہر شخص اپنے گھر سے کم باہر نکلتا ہے Read More »

اگرچہ جاننے والوں کے ساتھ چلتے ہیں

غزل اگرچہ جاننے والوں کے ساتھ چلتے ہیں مگر ہم اپنے سوالوں کے ساتھ چلتے ہیں طلب تو دیکھ ہماری ترے نگر کی طرف ہم اپنے پاؤں کے چھالوں کے ساتھ چلتے ہیں سب اپنے اپنے تضادوں کے دم سے ہیں زندہ سب اپنے اپنے حوالوں کے ساتھ چلتے ہیں بدن سنبھال کے چلنا شکاریوں

اگرچہ جاننے والوں کے ساتھ چلتے ہیں Read More »

باغ سے متصل ہے ایک گلی

غزل باغ سے متصل ہے ایک گلی جہاں کھلتی ہے میرے دل کی کلی محبس دل میں تم نہیں آئے ایک دن تو یہاں ہوا بھی چلی تیری فرقت کے داغ دل میں رکھے تیرے کوچے کی خاک منہ پہ ملی ایک تو ہے کہ ہے نظر آتا ایک میں ہوں کہ ہوں خفی نہ

باغ سے متصل ہے ایک گلی Read More »

یہ جو صراحی جام گھڑے ہیں جناب من

غزل یہ جو صراحی جام گھڑے ہیں جناب من خالی کسی سبب سے پڑے ہیں جناب من وعدوں کے جس مقام پہ چھوڑا تھا آپ نے ہم آج تک وہیں پہ کھڑے ہیں جناب من دولت نہیں تو کیا ہے مری شاعری تو ہے ہر ہر غزل میں موتی جڑے ہیں جناب من یہ جو

یہ جو صراحی جام گھڑے ہیں جناب من Read More »

ہم جیسوں کا خیال کسی نے نہیں کیا

غزل ہم جیسوں کا خیال کسی نے نہیں کیا اس بات کا ملال کسی نے نہیں کیا ہوتی رہی ہیں جن کی طرف سے عنایتیں درویش کو نہال کسی نے نہیں کیا سب لوگ منتظر ہیں کہ دروازہ کچھ کہے دیوار سے سوال کسی نے نہیں کیا تسخیر تو کیا ہے کسی کے جمال نے

ہم جیسوں کا خیال کسی نے نہیں کیا Read More »

در ہوس پہ شرافت نے گھٹنے ٹیک دیے

غزل در ہوس پہ شرافت نے گھٹنے ٹیک دیے غریب گھر کی ضرورت نے گھٹنے ٹیک دیے ہوس نژاد پروفیسروں نے ظلم کیا کتاب چھوڑ کے عفت نے گھٹنے ٹیک دیے سنا ہے آج کسی مافیا کی پیشی تھی سنا ہے آج عدالت نے گھٹنے ٹیک دیے قریب تھا کہ مرے حق میں بولتا انصاف

در ہوس پہ شرافت نے گھٹنے ٹیک دیے Read More »