MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گزشتہ شب جو اتنی روشنی تھی

غزل

گزشتہ شب جو اتنی روشنی تھی
تمہاری یاد کی جلوہ گری تھی

فضا میں گنگناہٹ تھی عجب سی
ہوا پتوں سے باتیں کر رہی تھی

غزل جیسا سراپا تھا کسی کا
کوئی صورت مکمل شاعری تھی

ترے الفاظ نشتر بن گئے تھے
محبت انتہا پر آ گئی تھی

سنا ہے بعد میرے کچھ دنوں تک
وہ مٹی پر لکیریں کھینچتی تھی

وہ گاہے اب پلٹ کر دیکھتی ہے
کوئی اک بات کہنا رہ گئی تھی

وہی ہم ہیں وہی تیرہ شبی ہے
محبت چار دن کی چاندنی تھی

لبوں پر قہقہے ہی قہقہے تھے
کوئی لڑکی تھی یا وہ پھلجڑی تھی

کوئی دل میں اچانک آ بسا تھا
محبت کی نہیں تھی ہو گئی تھی

افتخار حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم