MOJ E SUKHAN

خبر نہیں کہ کوئی کس کے انتخاب میں ہے

غزل

خبر نہیں کہ کوئی کس کے انتخاب میں ہے
مگر جو شخص کل ابھرے گا میرے خواب میں ہے

جہان والوں کے لاکھوں ادھر ادھر کے جواب
حیات کا تو سوال آدمی کے باب میں ہے

ہمیں نہ گھیرتی شاید یہ چار دیواری
مگر یہ خاک جو اس عالم خراب میں ہے

خود اپنے پر جو گئے ہیں وہ طفل کون سے ہیں
وہ نسل کیسی ہے جس کا جہاں عذاب میں ہے

نئے جہان کے معمار پہلے گزریں گے
پھر اس کے بعد وہ دنیا جو صرف خواب میں ہے

عجب سے نقش میں دیوار و در پہ دیکھتا ہوں
بس آنے والے ہیں جن کا سخن کتاب میں ہے

احسان اکبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم