MOJ E SUKHAN

کسی سے اپنی خبر ہم وصول کیا کرتے

غزل

کسی سے اپنی خبر ہم وصول کیا کرتے
خود آئینوں کا بھی احساں قبول کیا کرتے

وہ کھیت کھیت رہیں جن کی خار دار صفیں
انہی میں پھول تھے دو چار پھول کیا کرتے

تمام جانوں کے دشمن تمام ہاتھ ہوئے
یہ امتیں تھیں اب ان کے رسول کیا کرتے

یہ کوئی عمر تھی تیری محبتوں والی
سروں کی راکھ میں شامل یہ دھول کیا کرتے

تمہارے جیسا کوئی نقش ہر نگار میں تھا
مگر تھے ہم بھی بہت با اصول کیا کرتے

انہیں کہ جن سے بڑی چوٹ کر گئی تھی حیات
اب اور پرسش غم سے ملول کیا کرتے

جہاں تھا توڑنا دستور کا بھی اک دستور
وہاں ہمارے تمہارے اصول کیا کرتے

ہم ایسے لوگ جو خوابوں کے چلنے والے تھے
سحر سے اجر مسافت وصول کیا کرتے

احسان اکبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم