MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دہلیز پر مری کوئی آیا ہے برسوں بعد

غزل

دہلیز پر مری کوئی آیا ہے برسوں بعد
ہلچل سی دل میں کوئی تو لایا ہے برسوں بعد

ارمان دل میں میرے نئے جاگنے لگے
آنگن کو چاندنی نے سجایا ہے برسوں بعد

آنکھوں میں میری خواب ہیں تازہ سجے ہوئے
تعبیر خواب لے کے وہ آیا ہے برسوں بعد

پلکوں پہ میری جلنے لگے دیپ کچھ نئے
میرے لبوں نے گیت یہ گایا ہے برسوں بعد

پھر شاخ دل پہ گل نئے امید کے کھلے
موسم بہار تازہ کا آیا ہے برسوں بعد

تنہائی میری بانٹ لی ہے اس نے پیار سے
نام آج لے کے اس نے بلایا ہے برسوں بعد

اس نے بھی ٹوٹ کر ہمیں چاہا بہت دعاؔ
ہم نے بھی قرب اس کا یوں پایا ہے برسوں بعد

دعا علی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم