MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہاتھوں کا لمس مجھ کو کبھی بھیج بھی تو دے

غزل

ہاتھوں کا لمس مجھ کو کبھی بھیج بھی تو دے
خوشبو سا ہے خیال ترا زندگی تو دے

الفاظ گنگناؤں تری چاہتوں کے میں
دے عشق کا شعور مجھے شاعری تو دے

در دل کے بج رہے ہیں ہواؤں کے زور سے
اے شاعر فراق مجھے روشنی تو دے

اب آ گیا یقین تری چاہتوں پہ ہے
بہکی ہوئی رتوں کو ذرا نغمگی تو دے

محرم تو میرا بن کے ذرا اوڑھ لے بدن
ہر درد بھول جائے دعاؔ ہمرہی تو دے

دعا علی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم