MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مجھے ہنسنے کی عادت تھی مگر وہ اور کچھ سمجھا

غزل

مجھے ہنسنے کی عادت تھی مگر وہ اور کچھ سمجھا
ذرا سی اک شرارت تھی مگر وہ اور کچھ سمجھا

مری ہر بات پر ہنسنے سے اکثر وہ الجھتا تھا
مجھے اس سے محبت تھی مگر وہ اور کچھ سمجھا

میں ہنستی تھی کہ رنج و غم مرا ظاہر نہ ہو اس پر
مقدر میں جو ظلمت تھی مگر وہ اور کچھ سمجھا

میں سن کر ٹال جاتی تھی نصیحت کی سبھی باتیں
مری دل سے بغاوت تھی مگر وہ اور کچھ سمجھا

سنانا حال دل چاہا مگر اس کو بھی جلدی تھی
بڑی اچھی حکایت تھی مگر وہ اور کچھ سمجھا

منانا چاہتی تھی سچے دل سے اے دعاؔ اس کو
اسے مجھ سے شکایت تھی مگر وہ اور کچھ سمجھا

دعا علی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم